بازار کا نرخ
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - کھلا نرخ، قیمت فروخت۔ "کبھی کبھی ان سے بازار کا نرخ پوچھتی رہا کرو۔" ( ١٨٧٤ء، مجالس النسا، ٨١:١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسما 'بازار' اور 'نرخ' کے درمیان اردو کلمۂ اضافت 'کا' لگنے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٧٤ء میں "مجالس النسا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کھلا نرخ، قیمت فروخت۔ "کبھی کبھی ان سے بازار کا نرخ پوچھتی رہا کرو۔" ( ١٨٧٤ء، مجالس النسا، ٨١:١ )
جنس: مذکر